Home » ویلنٹائن ڈے کی اصل کہانی: محبت، قربانی اور تاریخ کی حیران کن حقیقت

ویلنٹائن ڈے کی اصل کہانی: محبت، قربانی اور تاریخ کی حیران کن حقیقت

by Shakir Khan
0 comments 43 views 2 minutes read Valentine's day History

ویلنٹائن ڈے کی اصل کہانی: محبت، قربانی اور تاریخ کی حیران کن حقیقت

ویلنٹائن ڈے کی تاریخ جتنی خوبصورت اور رومانوی لگتی ہے، حقیقت میں اتنی ہی حیران کن، تاریک اور دلچسپ ہے کہ سن کر ہر کوئی دنگ رہ جائے۔

قدیم روم میں فروری کے درمیانے دنوں میں ایک تہوار لوپرکیلیا منایا جاتا تھا، جو زرخیزی، طاقت اور زندگی کی حفاظت سے جڑا ہوا تھا۔ اس تہوار میں جانور قربان کیے جاتے، نوجوان مرد آدھے ننگے ہو کر شہر میں دوڑتے اور عورتوں کو چمڑے کے تسمے مارے جاتے تاکہ انہیں صحت اور اولاد نصیب ہو، اور یہ سب اس دور کی قدیم اور عجیب رواجوں کا حصہ تھا۔

تیسری صدی عیسوی میں رومی بادشاہ کلاڈیئس دوم نے نوجوان مردوں کی شادی پر پابندی لگا دی کیونکہ وہ سمجھتا تھا کہ غیر شادی شدہ مرد بہترین سپاہی ہوتے ہیں، لیکن ایک پادری ویلنٹائن نے اس حکم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خفیہ شادیاں کروائیں، جو دراصل انسانیت اور انصاف کا عمل تھا۔ اسی جرأت کے جرم میں اسے گرفتار کیا گیا اور بعد میں قتل کر دیا گیا۔

جب عیسائیت روم میں مضبوط ہوئی تو چرچ نے لوپرکیلیا جیسے قدیم اور بعض حد تک وحشیانہ تہوار ختم کرنے کے بجائے انہیں مذہبی رنگ دے کر عوام کے لیے قبول کروا دیا۔ یوں ویلنٹائن کو محبت کا شہید قرار دیا گیا۔ بعد میں یورپی شاعروں نے اس دن کو رومانوی کہانیوں اور پرندوں کے ملاپ سے جوڑا، اور جدید دور میں تاجروں اور کاروباریوں نے اسے تحفوں، گلابوں اور قیمتی کارڈز کا دن بنا دیا۔

اصل حقیقت یہ ہے کہ ویلنٹائن ڈے کبھی خالص محبت کے لیے نہیں بنایا گیا تھا۔ یہ دن قدیم رواج، بغاوت، قربانی، مذہبی رنگ، اور تجارتی چالوں کا امتزاج ہے۔ محبت بعد میں شامل ہوئی اور آج ہم جو دن صرف دل کے جذبات کے لیے مناتے ہیں، وہ دراصل تاریخ کی سب سے بڑی حیران کن اور پیچیدہ کہانی ہے۔


You may also like

Leave a Comment

* By using this form you agree with the storage and handling of your data by this website.

-
00:00
00:00
Update Required Flash plugin
-
00:00
00:00